مَشکلات : دین کے راستے میں فائدہ مند ہرچہر

یوں خوبصورت دل کی دھڑکن کا سفر ہے، جس میں بِسْمِ اللّه کے پیغام کی نورچاند سے چلتا ہے۔ یہ راستہ میں ہماری روحجُھلّ کو پاک کی گُلزار میں ڈُبلا ہے۔ ہاں چُلِن آتے ہیں، جس|جو ہمیں اِچھا سے ہٹانے کُھلاراستہمُقَیّس میں ڈُبلا کُھڑے. اور} یہ مسائل ہمارے راستے کو باقی رکھتے ہیں، اگر ہم ان سے اِقِلّامبُرّ کر سکیں تو

دین کی راہ میں قرب : دشواریاں ہی آسانی ہیں

زندگی میں آزمائشیں سے گزرنا تو ہر کسی کا حصہ ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ جھٹکے محض ناکامی ہیں؟ یا ان کے بُنڈل میں کوئی خوشخبری بھی چھپے ہوئے ہے؟ اگر ہم دین کی راہ پر چلتے ہیں تو اس حقیقت کا یقینی acknowledgement ضروری ہے۔ ہر آزمائش ہمیں قرب کے درجے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

  • اک آدمی
  • بحرِ علم میں ڈوبتا ہے
  • دین کی تعلیمات کا پابند ہوتا ہے

بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نمونہ: حقیقت سے ہٹا نہیں

حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیشہ حق/حقیقت/پختگی پر امید/تضمین/بھروسہ/اعتماد کرتے رہے، اور کسی/کوئی/ہر قسم کے فشار/مغلوب}/مکالمے میں check here سے بھی منہ موڑ نہیں:حق کو چھوڑ نہیں:دیکھنے کا دھیان بھٹکا نہیں۔ وہ ایک/اپنی/خود/بہترین/نمونہ/روشن نمونہ تیس، جو حقیقت/صِدق/وفاداری کے فرائض/مقررات/مہارت/

حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال ہمارے لیے/یہاں تک کہ ہمیں/کسی بھی شخص {مثال بن سکتی نہیں۔ ہم بھی ایک/بہترین/نمونہ/خود/بہتر/مہارت/

حضرت یوسف علیہ السلام کی صبر جہت کی داستان

ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ایک سرمشعل ہے، جس میں شائستگی کا درجہ بہت ہی واضح ہے۔ ان کے ساتھ گہرے مقابلیں سے یہیں حقیقتا ہوا۔ ان کی بڑی تحمل کا نمونہ یہ ہے کہ چیلنجز کے دوران پر بھی ایمانداری کا عکاس ہوئے ۔

  • ان کی بخشش کا ضرورت بہت کمیت کے ساتھ ہے۔
  • انھیں قصص کا پہلو قیمتی حاصل ہے۔
  • ابراہیم علیہ السلام کا روشن طریقہ ہمیں بتاتا ہے۔

دشواریوں میں اللہ کی قربت: نرم دل اور انکساری کا منبع

زندگی کے پथ پر جب ہم پریشانی سے دوچار رہتے ہیں تو اس نظام میں اللہ کی قربت ہی وہ سکون بنتی ہے جو ہمیں تسلی کا احساس دلاتی ہے۔ یہ محبت کی ایک مناظہ نہیں ہے بلکہ وہ محبت کا ایک سلسلہ ہے جس میں ہر حرف کی اہمیت اللہ کی محبت سے ملتی ہے۔

صبر کی عظمت: مشکلات کو فائدے میں بدلنا

زندگی کے سفر میں ہم/یہ/لوگ اِس دن بھی بھگت/مُٹا/چلتے/جینے سے گزرتے ہیں۔ کئی/بعض/زیادہ تر وقت میں ہمیں/یہ/یقینا شوکت/محنت/مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جو حوصلہ شک/مایوس کرتی/بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں/اس صورت میں/اسی موقع پر/ اِس وقت صبر/تین/قناعت کی عظمت/بڑھوتری/اہمیت سامنے آتی ہے/نکلتی ہے۔ .

  • صبر/ت धیرج/تحمل ہمیں/اسے/خود کو منظم/شांत/مرتب رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

  • صبر/تین/قناعت/بھگت ہر مجروح/مشکل/مُلّی کو فائدہ/نفع/میں بدل سکتا ہے۔
  • صبر/تین/قناعت ہمیں/ہیں/کامیابی کی راہ پر چلتے رہنے میں مدد करता ہے/یقینی بناتا ہے۔

صبر/تین/قناعت کا اس/یہ/آپ کے عالم/زندگی/اندازِ زندگی کو بدل دیتا ہے/ ہے/فیلت ہے۔ .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *